شہر اللہ اور بیت اللہ

شہر اللہ اور بیت اللہ

مولانا محمد نعمان خلیل

"محرم الحرام” کے حوالہ سے چند معروضات:۔

۔1- "محرم الحرام” کی اہم ترین فضیلت یہ ہے کہ اسے” شہر اللہ” کہا گیا ہے(صحیح مسلم) جیسے تمام مسجدیں اللہ تعالیٰ کا گھر اور بیوت اللہ ہیں، لیکن "بیت اللہ” کا نام جس کے ساتھ خاص ہے وہ ایک ہی مسجد ہے:”مسجد الحرام”، ایسے ہی تمام مہینے اللہ تعالیٰ کے ہیں اور اسی کے مقرر کردہ ہیں، لیکن "شہر اللہ” جسے کہا گیا وہ صرف "محرم الحرام” ہے۔

۔2- جس طرح "بیت اللہ” سے مسجدوں کی ابتداء ہوتی ہے ( کیوں کہ کائنات کی سب سے پہلی مسجد جو حضرت آدم علیہ السلام کے ہاتھوں تعمیر ہوئی وہ” مسجد الحرام، بیت اللہ” ہے،اس کے بعد "مسجد اقصی” بنائی گئی، گویا "بیت اللہ” سے مساجد کی ابتداء ہوتی ہے) ہر خیر اسی مسجد سے پھوٹتی ہے، ہر نمازی کا رخ اس میں موجود کعبہ کی طرف ہوتا ہے، اسی طرح اسلامی مہینوں کی ابتداء ” شہر اللہ” سے ہوتی ہے، وہی اسلامی تاریخ کی بنیاد اوردینی ثقافت کی علامت ونشانی ہے اور ہرعظیم الشان واقعہ اسی کی نسبت سے یاد رکھا جاتا ہے ۔

۔3- جیسے "بیت اللہ” کے حج کے بعد نئی زندگی شروع ہوتی ہے، اسی طرح "ذوالحج” کے بعد "شہر اللہ” میں مسلمان نئے ولولے اور جزبے کے ساتھ پر عزم ہو کر اپنی زندگی کے نئے سال کی ابتداء کرتے ہیں۔

۔4- "بیت اللہ” رحمت و برکت کا سر چشمہ ہے، "شہر اللہ” سعادتوں اور نیکیوں کا خزینہ ہے۔

۔5-” بیت اللہ” میں رحمت کی برسات کبھی کم نہیں ہو سکتی، "شہر اللہ” میں سعادتوں کی بارش کبھی تھم نہیں سکتی۔

اغیار کی روش نے "شہر اللہ” کی خوشیاں چھین لیں، رحمتیں بھلادیں، سعادتیں پسِ پشت ڈال دیں اور فضیلتیں نظر انداز کر دیں، ہمیں اغیار کے نقشِ قدم کی پیروی سے نکل کر اسلامی تاریخ سے جڑنا چاہیے اور "بیت اللہ” کی سعادت کے بعد "شہر اللہ” کی فضیلتوں اور نیکیوں سے بہرہ مند ہونا چاہیے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے